ہم کو بخشا گیا قرآن سا شہکارِعظیم

دنیا کا ہرملک جس نے غلامی کے بعد آزادی پائی ہو ، ہرسال وہ اپنی آزادی کا جشنمناتا ہے اور جنکی قربانیوں نے اس ملک کو غلامی کی طوق سے نجات دلوائی اس دن انکا شکر ادا کرتا ہے۔پھر اس دن بھی جشن چراغاں کرتا ہے جس دن ملک کی فلاح و بہبودی کے لیے کوئی قانون بنایا اور لاگو کیا جاتاہے۔ آزادی و قانون دونوں ہی حیات انسانی کے لئے لازم وملزوم ہیں ۔ آزادی کے بغیر انسان سانس بھی گھٹ گھٹ کر لیتا ہے اورلا قانونیت سے اسکی زندگی بے ربط و ضبط ہوجاتی ہے۔

ان دونوں ہی موقعوں پر انسان شکرو سپاس کے جذبات سے معمور، دل میں قوم و وطن کے قدموں پر ایثارکرنے ا ور قربانی دینے کادم بھرتا ہے۔ تن من دھن کی بازی لگانے کا عزم کرتا ہے۔ اور وہ یہ سب اس آزادی کے حصول پر کرتا ہے جو چھن جانے کے خطرے سے خالی نہیں ہوتی اور اس قانون کو پانے پر کرتا ہے جو خامیوں سے خالی نہیں ہوتا۔ ایک آزادی انسان کو اس کے رحمان و رحیم رب نے بھی دی ہے۔نوعِ انسا ن کو ہرنوع کی غلامی سے آزادی، مخلوق کو خالقِ حقیقی کی بندگی کے سوا ہر ایک کی بندگی سے آزادی،ہر در پہ جھکنے والی انسانی گردن کو اسنے مکتی دی اور اسے وحدہ لا شریک کی چوکھٹ پر خم کرنے کی تعلیم دی۔ اس افلاس سے آزادی دی جس میں انسان کے معبود و مسجود پتھر کے صنم ہوتے ہیں۔

وہ ایک سجدہ جسے تو گراں سمجھتا ہے

ہزار سجدوں سے دیتا ہے آدمی کو نجات

اس نے انسانی سماج کو رسم و رو اج کے ان سارے بندھنوں سے خلاصی دلائی جن کی آڑ میں آدمی کو آدمی کے آگے جھکنے پر مجبور کیا جاتا تھااور پوری نوع انسانی کے لیے زیست کا ایسا زبردست اور ابدی قانون عطا فرمایا جس میں خامی تو دور کوئی جھول تک نہیں ۔اس نعمت آزادی کے لیے انسان کو اپنے پرور دگار کا کتنا مشکور ہونا چاہیے

اسی لیے اللہ تبارک و تعالی نے خود قرآن میں فرمایا ﴾ شھر رمضان الذی انزل فیہ القرآن ھدی للناس و بینٰت من الھدی والفرقان، فمن شھد منکم الشھر فلیصمہ، و من کان مریضا او علی سفر فعدة من ایام اخر، یرید اللہ بکم الیسر ولا یرید بکم العسر ولیکملوا العدة ولتکبروا اللہ علی ما ھداکم و لعلکم تشکرون﴿

”رمضان وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا جو انسانوں کے لیے سراسر ہدایت ہے اور ایسی واضح تعلیمات پر مشتمل ہے جو راہ راست دکھانے والی اور حق و باطل کا فرق کھول کر رکھ دینے والی ہے۔ لہذا

اب سے جو شخص اس مہینے کو پائے، اس کو لازم ہے کہ اس پورے مہینے کے روزے رکھے اور جو کوئی مریض ہو یا سفر پر ہو، تو وہ دوسرے دنوں میں روزوں کی تعداد پوری کرے اللہ تمہارے ساتھ نرمی کرنا چاہتا ہے ، سختی کرنا نہیں چاہتا۔ اس لیے یہ طریقہ تمہیں بتایا جارہا ہے تاکہ تم روزوں کی تعداد پوری کرسکو اور جس ہدایت سے اللہ نے تمہیں سرفراز کیا ہے اس پر اللہ کی کبریائی کا اظہار و اعتراف کرو اور شکر گزار بنو۔“

رمضان وہ مہینہ ہے جسمیں قرآن نازل ہوا جو پورے نوعِ انسانی کی آزادی کا علمبردار ہے۔یہ اس قانون پر مشتمل دستاویز ہے جو بشر کو پر امن زندگی کی ضمانت دیتا ہے۔ اس لیے بطور شکر لازما اس ماہ مبارک میں روزے رکھو۔

قرآنِ مجید کی حقیقت پر غور کرنے سے اس حکمت کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہااللہ تعالیٰ نے کیوں اس کتاب کے نزول پر بھوک ،پیاس اور پرہیزگاری کی مشقتوں کو ہم پر فرض کیا ہے؟

قرآن قراءت سے ہے ۔اسکا مطلب پڑھناہے ، قرآن کا مطلب ہے بار بار پڑھی جانے والی کتاب،بلحاظ معنی یہ دنیا میں بہت زیادہ پڑھی اور حفظ کی جانے والی کتاب ہے۔

یہ کتاب کائنات کے رب کی جانب سے اپنے بندوں کے لیے ایک نادر و نایاب عطیہ ہے، یہ اللہ کی طرف سے نازل کردہ قانون و شریعت ہے، اللہ تعالی نے فرمایا” ہم نے آپ کی طرف حق کے ساتھ یہ کتاب نازل فرمائی ہے جو اپنے سے اگلی کتابوں کی تصدیق کرنے والی ہے اور ان کی محافظ ہے اس لئے آپ ان کے آپس کے معاملات میں اسی اللہ کی اتاری ہوئی کتاب کے ساتھ حکم کیجیے ۔ اس حق سے ہٹ کر ان کی خواہشوں کے پیچھے نہ جائےں۔ تم میں سے ہر ایک کے لیے ایک شریعت اور ایک راہ عمل مقرر کی ہے۔“

اس کتاب میں توحیدو رسالت کی تلقین بھی ہے، طریقہ ¿ بندگی کے ا طور بھی ۔ طہارت و پاکیزگی کے دروس بھی ہیں، انبیاءعلیہم السلام کی پاکیزہ زندگیاں بھی ہیں ، مغرور و متکبر اقوام کے قصے بھی ہیں اور انکے عروج وزوال کی تاریخ بھی، حکومت و اقتدار کے داو پیچ بھی ، سیاست بھی اس میں ہے، اس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ والدین اور اولاد کے درمیا ن کس قسم کا تعلق مطلوب ہے ۔تعلق زن وشو کے دوامی اصول بھی سکھائے گئے ہیں، رشتداروں اور قرابت داروں کے حقوق کے متعلق احکامات بھی ہیں ، نا فرمانی کرنے والوں کے لیے تہدید و وعید بھی ہے، شیطان مردود کی چالوں سے محفوظ رہنے کی تدبیریں بھی اس کتاب میں بتا ئی گئی ہیں۔ یہ خلاف قانون عمل کرنے والوں کو سزائیں تجویز کرنے والی کتاب ہے۔زندگی بعدِ موت میں آدمی کی کامیابیوں کی ضمانت کا زرین نسخہ ہے ۔یہ وہ کتاب ہے جو اپنی طرف رجوع ہونے والوں کے لیے جسم وروح کی بیماریوں کے لیے علاج ہی نہیں بلکہ ذ ہن و دل کی پراگندگی اور اخلاق و کردارکی کمزوری کے لےے بھی اکسیر ہے۔ یہ انسان کو ایک عظیم الشان شخصیت کی حامل بنانے والی کتاب ہے، قرآن انصاف و نا انصافی ، اچھائی اور برائی میں فرق کرنے والا فرقان ہے۔غرض یہ کتاب موجودہ زندگی کے مسائل کا حل بھی پیش کرتی ہے اور اگلی زندگی کی کامیابیوں کی ضامن بھی یہی کتاب ہے ۔ لا قانونیت اور نا بلدی کے درمیان بھٹکنے والوں کے لیے یہ کتاب رہنما اور صحیح راستے کی طرف نشاندہی کرنے والی رہبر ہے، اندھیروں میں بھٹکے ہوئے مسافروں کے لیے مشعل راہ بھی ہے ۔

نبی صلى الله عليه وسلم نے فرمایا :”بے شک قرآن اللہ کی رسی ہے۔ کھلی روشنی ہے۔ نفع بخش دوا ہے جو اسکو تھام لے اسکا محافظ ہوجاتا ہے۔جو اسکی اتباع کرے اسکے لیے نجات ہے ۔“

﴾ قرآن نبی صلى الله عليه وسلم کے دل پر نازل ہواجو پہلے آئیہوی کتابوں کی تصدیق و تائید کرتا ہے اور ایمان لانے والوں کے لیے ہدایت اور کامیابی کی بشارت بنکر آیا ہے﴿ (بقرة ۔۷۹)

﴾ اے نبی صلى الله عليه وسلم ہم نے یہ کتاب حق کے ساتھ تمہاری طرف نازل کی ہے تاکہ جو راہ راست اللہ نے تمہیں دکھائی ہے اس کے مطابق لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو﴿ (نسائ۔ ۱۰۵)

تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے ایک دلیل روشن اور ہدایت اور رحمت آگئی ہے اب اس سے بڑھکر ظالم کون ہوگا جو اللہ کی آیات کو جھٹلائے اور ان سے منہ موڑے)(انعام۔۷۵۱

﴾ یہ پاک کتاب ہے جسے ہم نے نازل کیا ہے بڑی خیر وبرکت والی ہے۔ اس لیے نازل کی گئی کہ اس کے ذریعے سے تم بستیوں کے اس مرکز یعنی مکہ اور اس کے اطراف کے رہنے والوں کو متنبہ کرو﴿(۲۹۔انعام)

﴾تمہارے پاس اللہ کی طرف سے روشنی آگئی ہے اور ایک ایسی حق نما کتاب جس کے ذریعہ سے اللہ تعالی ان لوگوں کو جو اس کی رضا کے طالب ہیں سلامتی کے طریقے بتاتا ہے اور اپنے اذن سے انکو اندھعروں سے نکال کر اجالے کی طرف لاتا ہے اور راہ راست کی طرف انکی رہنمائی کرتا ہے﴿ (مائدہ۔ ۶۱)

یہ کتا ب رحمت ہے، اس لیے کہ گناہوں کے بوجھ تلے دبے مایوس و شکستہ دلوں کے لیے معافی کا در وا کرتی ہے ۔

یہ کتاب بشریٰ ہے،اس لیے کہ نیکی پر چلنے والے راستباز لوگوں کے لیے دنیا اور آخرت میں خوش آئیند مستقبل کی خوشخبری سناتی ہے۔

یہ کتاب ذکریٰ ہے، اس لیے کہبھلائی کو چھوڑ کر برائی کی طر ف راغب ہونے والے مسلمانوں کو یہ بھلائی کی یاد دہانی کراتی ہے ۔

﴾اے محمد صلى الله عليه وسلم اسی طرح ہم نے اسے قرآنِ عربیبنا کر نازل کیا ہے اور اس میں طرح طر ح سے تنبیہات کی ہیں شاید کہ یہ لوگ کج روی سے بچیں یا ان میں کچھ ہوش کے آثار اس کی بدولت پیدا ہوں(طہ ۳۱۱)

معاشی بحران و معاشرتی دباﺅ کے تحت شدید ذہنی خلفشار میں مبتلا لوگوں کے لیے یہ شفاءہے۔ یہ اللہ اور بندوں کے درمیان رابطے کی رسی ہے جسے اللہ تبارک و تعالی نے مضبوطی سے تھامنے کو کہا ۔ انسان کی ہر بیماری کو دور کرنے والی، ہر مسئلہ کو حل کرنے والی اس عظیم الشان کتاب کی عطا پر اللہ تعالی نے بطور شکر ماہ رمضان میں پورے مہینے کے روزے رکھنے کو فرض قرار دیا۔

بحیثیت مسلم ہم کتنے خوش نصیب ہیں جو اس نعمت عظمی کے حامل ہوے، اگر اللہ سبحانہ و تعالی کی رحمت نہ ہوتی اور ہمیں یہ قرآن عطا نہ کیا گیا ہوتا تو ہم کیسے اندھیروں میں بھٹک رہے ہوتے اور کیسی ذلت کی پستیوں میں ہوتے ، ذرا تصور کریں وہ بت پرستی کی گندگی، وہ خون ،وہ مرے ہوے جانور جنہیں بصد شوق کھایا جاتاہے۔ پانی کی جگہ شراب نوشی، اور شراب کے نشے میں دھت لوگوں کے وہ آئے دن سر بازار سرزد ہونے والے ناٹک، مہینہ بھر کی محنت کی پونجی جوے میں ہارکر خالی ہاتھ لوٹنے والے تہی دست و تہی دامن مرد ، پانسے اور کنڈلیوں میں اپنی قسمتوں کا حال تلاش کرتی عورتیں!

تھوڑا اور غور کریں !دنیا کی جن بڑی حکومتوں نے سود کے جو خوبصورت خاکے پیش کیے تھے ،انہوں نے،سود کی خود ساختہ لعنتوں میں ڈوب کر اپنی لٹیا تو ڈبو ہی لی، دنیا کو بھی اپنے ساتھ غرق کیا،مسلمان بھی اگر انکا چلن اختیار کرتے تو کیا ہوتا انکا حال ڈوب نہ جاتا انکا سفینہ ¿ حیات بھی ؟

خنزیر کے گوشت کے عادی ہو کر ٹینا سولیم او ر سوائن فلوجیسی متعدی امراض کا شکار ہوتے، محبت ، فیشن ،ا علی تہذیب و ترقی کے نام پر ایڈز جیسی جان لیوا بیماریوں کو گلے لگاتے ۔

اللہ تعالی نے فرمایا﴾اے لوگو جو ایمان لائے ہو شراب اور جوا اور آستانے اور پانسے یہ سب گندے شیطانی کام ہیں، ان سے پرہیز کرو ، امید ہے کہ تمہیں فلاح نصیب ہوگی ﴿

تو پھر اس عظیم الشان تحفہ خداوندی پر ہمیں کتنا نازاں ہونا چاہیے ، کتنا شکر ادا کرنا چاہیے اور قرآن کے ساتھ ہمیں کیسا لگاﺅ ہونا چاہیے اور ہما را اسکے ساتھ کیسا برتاﺅ ہونا چاہیے؟

کیا سال میں ایک بار قرآن کا ایک سے ۶ دورے کرنا،طوطا مینا کی طرح رٹنا، اسکو خوبصورت جاذب نظر جز دانوں میں لپیٹ کر طاقوں میں سجانا، پھر ماہِ رمضان کی آمد پر اسکی گرد جھاڑ کر اسے آنکھوں سے لگانا، چوم کر سینے سے لگا لینے سے کیا اسکا حق ادا ہو جائیگا؟

بے شک قرآن کا احترا م کرنااور اسکا پڑھنا باعث اجر و ثواب ہے لیکن کیا اس نادر و نایاب کتاب کی بس اتنی اہمیت کہ ہم اسکو صرف پڑھنے کی حد تک محدود رکھیں ؟

جبکہ فرمان باری تعالی ہے﴾یقینا یہ قرآن وہ راستہ دکھاتا ہے جو بہت ہی سیدھا اور ایمان والوں کو جو نیک اعمال کرتے ہیں اس بات کی خوشخبری دیتا ہیکہ ان کے لیے بہت بڑا اجر ہے﴿

قرآن ہمیں اس لیے عطا کیا گیاہے کہ ہم اللہ تعالی کی رضا کا راستہ جان کر خود اس پر چلیں اور دنیا کو اس پر چلائیں ۔ ورنہ اگر یہ عام کتابوں کی طرح ایک رسمی سی کتاب ہوتی تو اللہ تعالی اسکی شان نزول میں ہمیں بطور شکر روزے جیسے فعل پر نہ ابھارتے اور نہ اس ماہ کو ہی وہ اہمیت حاصل ہوتی۔لہذااس ماہ میں صرف عبادات و اخلاقی تربیت ہی نہیں بلکہ اس نعمت قرآن کی بھی صحیح اور موزوں شکر گزاری ہے۔

علی بن ابی طا لب نے کہا میں نے نبی صلى الله عليه وسلم کو کہتے سنا ” خبردار عنقریب آزمائشیں ہونگی(فتنے اٹھیں گے) میں نے سوال کیااس سے نکلنے کا راستہ کیا ہے اے اللہ کے رسول؟ کہا ”( اس سے نکلنے کا ایک ہی راستہ ہے) کتاب اللہ(کو مضبوطی سے تھامے رہنا)اس میں تم سے اگلوں کے واقعات ہیںاور بعدمیں آنے والوں کی خبریں ہیں،وہ تمہارے درمیان حَکَمہے اور اس کی بات قولِ فیصل ہے، مذاق نہیں ہے، جس نے کسی متکبرنے اسکو چھوڑا تواللہ اسکی کمر توڑ کر رکھدیگا ،جو اس کتاب سے ہٹ کر دوسرا راستہ تلاش کریگا اللہ اسے گمراہ کردیگا ۔یہ اللہ کی مضبوط رسی ہے ۔ یہ ایک مکمل پر حکمت نصیحت ہے ۔ یہی سیدھا راستہ ہے اسکو مان کر چلنے سے خواہشیں نہیں بھٹکتیں، زبانیں اس سے نہیںبہکتیں (شک و شبہ والی باتیں نہیں آتیں) اس سے علماءکی تشنگی نہیں بجھتی، باربارکی تلاوت سے یہ کبھی پرانا نہیں ہوسکتا۔ اسکے عجائب کبھی ختم نہیں ہوتے۔ یہ وہ کتاب ہے جسے جنوں نے سنا تو انہیں کہتے ہی بنا” ہم نے ایک بڑا ہی عجیب قرآ ن سنا ہے جو راہ راست کی طرف رہنمائی کرتا ہے اس لیے ہم اس پر ایمان لے آئے ہیں“۔

جس نے اسکی بات کی وہ سچا ہی ہے اور جس نے اس پر عمل کیا اجر پاگیا،جس نے اسکی رو سے فیصلہ سنایا اس نے عدل ہی کیا اور جس نے اسکی طرف دعوت دی اس کو راہ راست ہی کی طرف رہنمائی کی۔

اور جنھیں دنیا کی زندگی فریب میں مبتلا کیے ہوئے ہے ۔ہاں مگر اس قرآ ن سنا کر نصیحت اور تنبیہ کرتے رہو کہ کہیں کوئی شخص اپنے کیے کرتوتوں کے وبال میں گرفتار نہ ہو جاے۔ (۰۵۵)